بھٹکل :29؍ڈسمبر (ایس او نیوز) اُڈپی ضلع کے ملپے بندرگاہ سےماہی گیر کشتی پر مچھلیوں کا شکار کرنے کے لئے سمندر میں اُترے ماہی گیر وں کو لاپتہ ہوئے 14دن بیت رہے ہیں مگر کشتی اور کشتی پر موجود 7ماہی گیروں سے رابطہ ٹوٹ جانے کے بعد اب تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل پایاہے۔ شبہ جتایا جارہاہےکہ قزاقوں نے ماہی گیروں کو کشتی سمیت اغواء کرلیا ہوگا، وہیں دوسری طرف مہاراشٹرا ، دیوگڑھ کے ماہی گیر انہیں اغواء کئے جانے کا شبہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ کشتی سمیت لاپتہ ہونے والے ماہی گیروں کے خاندان والے بہت پریشان ہیں اور مختلف خدشات میں مبتلا ہیں۔ کوسٹ گارڈ اور ساحلی تحفظ دستہ لگاتار کشتی اور ماہی گیروں کی تلاش میں جٹی ہوئی ہے۔خیال رہے کہ لاپتہ کشتی میں چندرا شیکھر نامی کشتی مالک کے علاوہ ملپے کے ۲، کمٹہ کے۲، بھٹکل کے ۲اور ایک ماہی گیر ہوناور تعلقہ کے منکی کا موجود ہے۔
ملپے بندرگاہ سے 13ڈسمبر کو 6ماہی گیر کشتیاں سمندر میں مچھلیوں کا شکار کے لئے اُتری تھیں۔ 15ڈسمبر کی رات 1بجے ایک ماہی گیر کشتی سے رابطہ منقطع ہوگیا۔جبکہ بقیہ 5کشتیوں سمیت پاس پڑوس کے 200-300بوٹ والوں نے بھی گم شدہ بوٹ اور ماہی گیروں کا پتہ لگانے کی کوشش کی۔ بتایا جارہا ہے کہ دیگر کشتیوں پر سوار ماہی گیر واپس لوٹنے کے انتظارمیں تھے مگر 22ڈسمبر تک نہیں لوٹے تو پولس تھانے میں شکایت درج کی گئی ۔ لاپتہ ہونے والے ماہی گیروں میں سے ایک ماہی گیر کے موبائیل کا نیٹ ورک مہاراشٹرا کی سرحد پر دیکھا گیا تھا مگر بعد میں پولس کو کوئی سگنل نہیں ملنے کی بات کہی جارہی ہے۔
پچھلے پانچ ، چھ دنوں سے ملپے کی کئی ماہی گیر کشتیوں سمیت منگلورو، گوا اور مہا راشٹرا کے کوسٹ گارڈ ہیلی کاپٹر اور کشتیوں کے ذریعے تلاش میں سرگرداں ہیں مگر ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملاہے۔ کاروار سے ایک انٹرسیپٹر بوٹ اور گوا اور کورتی سے ایک ایک گشتی بوٹ تلاش میں مصروف ہیں۔ دیوگڑھ، رتنا گری اور وینگورا میں لنگر ڈالے ہوئے کشتیوں میں بھی چھان بین کی گئی ہے ماہی گیروں کا پتہ لگانے کے لئے کاروار کے ساحلی محافظ دستہ افسران کے ساتھ چند ماہی گیر مہاراشٹراپہنچ کر مہاراشٹرا کے افسران کے ساتھ بھی تین ٹیموں کے ذریعے بحرہ عرب میں ڈھونڈنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، مگر سمندرمیں دور تک جانے کے باوجود کوئی نشان نہیں مل پایا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ بوٹ اگر سمندر میں غرق ہوگئی ہوتی تو اس کا کوئی نہ کوئی سراغ ضرور ملتا ، لیکن ابھی تک کوئی سراغ نہ ملنے کی وجہ سے اغواء ہونے کاخدشہ جتایاجارہاہے۔ایک اطلاع اس بات کی بھی ملی ہے کہ لاپتہ بوٹ مہاراشٹرا کی سرحد پردیکھی گئی ہے مگر ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہوپائی ہے۔
ماہی گیروں کا کشتی سمیت لاپتہ ہونے سے دیگر ماہی گیر بھی خوف میں مبتلا ہوگئے ہیں اور ملپے بندرگاہ پر قریب 350 ماہی گیر مچھلیوں کا شکار کرنے کے لئے سمندر میں اُترنے سے خوف محسوس کرتے ہوئے کشتیوں کو وہیں لنگر انداز کررکھا ہے۔